ابنا: مولانا ڈاکٹر سید محمد جواد ہادی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا صاحب قائد شہید کے دست راست تصور کئے جاتے تھے، چنانچہ قائد کی شہادت کے بعد انہی کے تاسیس کردہ مدرسے، جامعۃ الشہید عارف الحسینی کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ تنظیمی امور اور ملکی سیاست میں آپ کو یدطولٰی حاصل ہے۔ تحریک جعفریہ پاکستان کی سپریم کونسل کے ممبر رہ چکے ہیں۔ مارچ 1994ء تا 12 اکتوبر 1999ء تک سینیٹ کے رکن رہ کر ملت جعفریہ کی نمائندگی کی، جبکہ اس وقت ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ عالی کے ممبر ہیں۔ پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اور ڈاکٹریٹ کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر مولانا سید جواد ہادی کے ساتھ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے عام انتخابات کے لئے کی جانے والی تیاریوں پر گفتگو کی ہے۔ جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔
عام انتخابات کے لئے ملت تشیع کی دو تنظیمیں مختلف انتخابی حلقوں میں فعال ہیں، کیا اس انداز میں کامیابی کا حصول ممکن ہوگا۔؟
جہاں تک ملت تشیع کی دو تنظیموں اور دو دو امیدواروں کا تعلق ہے تو انتخابات میں ابھی کافی دن ہیں۔ انشاءاللہ کوئی حل نکل آئے گا۔ ان کے انتخابات میں حصہ لینے سے قوم کو فائدہ ہونا چاہیئے، ایسا نہ ہو نقصان ہو جائے۔
ملت تشیع کے مشترکہ انتخابی پلیٹ فارم کے حوالے سے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں۔؟
بہرحال کوشش ہو رہی ہے۔ کچھ حلقوں میں مشترکہ امیدوار کھڑے کئے گئے ہیں۔ مثلاً ڈیرہ اسماعیل خان میں دونوں شیعہ تنظیموں نے مل کر ایک امیدوار کی حمایت کی ہے۔ باقی جتنے حلقے ہیں ان میں ضروری نہیں ہے کہ آخری وقت تک دونوں جماعتوں کے امیدوار کھڑے رہیں۔ آپس میں افہام و تفہیم ہو جائے گی۔ انشاءاللہ کوئی حل نکل آئے گا، کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔
ملت تشیع کی نسل کشی روز کا معمول بن چکا ہے، تشیع کے حقوق کا حصول اور ملت کا دفاع مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، کیا آمدہ انتخابات سے کسی قسم کی امید لگائی جاسکتی ہے۔؟
جہاں تک حقوق کا تعلق ہے، اس ملک میں کسی کو بھی حقوق نہیں ملے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی امید کی جاسکتی ہے، اس ملک میں فاسد سسٹم رائج ہے۔ اس میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ فرنگی کلچر حاکم ہے اور اس سے یہ سسٹم قائم ہے۔ محروموں، غریبوں اور پسے ہوئے طبقے کے حالات جوں کے توں رہیں گے۔ اس ملک میں غربت کے خاتمہ اور جائز حقوق دلانے کے لئے سسٹم میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ ممکن نہ ہو، کسی کو حقوق ملنے کی امید نہیں ہے۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ دوسرے شہریوں سے مختلف نہیں ہیں۔ یہاں غربت پورے ملک میں چھائی ہوئی ہے۔ یہاں استعماری طبقہ حاکم ہے۔ الیکشن میں بھی چہرے بدل کر آتے ہیں۔ جب تک سسٹم کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، کسی قسم کی تبدیلی کی امید نہیں ہے۔
طالبان کی کوشش ہے کہ ان کے ہمنوا اسمبلیوں تک پہنچیں، کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان واضح تقسیم کی جائے، اس عمل پر آپ کی کیا رائے ہے۔؟
میرے خیال میں سیاسی لحاظ سے اس ملک میں طالبان کے لئے نرم گوشہ کوئی نہیں رکھتا، چونکہ گذشتہ چند سالوں سے طالبان کا جو طریقہ کار رہا ہے۔ اس سے پورے ملک کے شہری اور ہر مسلک کے لوگ خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ کوئی بھی ان کو پسند نہیں کرتا، طالبان جس طریقے سے اس ملک پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، میرے خیال میں اس کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ لہذا الیکشن کے ذریعے سے ان کے اقتدار میں آنے کے کوئی چانسز نہیں ہیں۔ پڑھا لکھا طبقہ ہو، سنی ہو شیعہ ہو، کاروباری طبقہ ہو، سیاستدان ہوں، سب ان کے رویہ سے خوفزدہ ہیں اور ان کے دلوں میں ان کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے، جب تک کہ طالبان اپنے طریقہ کار اور رویہ کو نہ بدلیں۔
جیسا کہ آپ نے کہا اس ملک میں فاسد نظام رائج ہے، چند اہل سنت اور چند اہل تشیع علماء کرام کی یہ رائے ہے کہ اس فاسد نظام کے تحت ہونے والے الیکشن میں حصہ لینا درست نہیں ہے، اس سے قوم پر صرف اور صرف ظالم اور جابر لوگوں کو مسلط کیا جاتا ہے۔؟
الیکشن میں شرکت کرنا ضروری نہیں ہے، امید نہیں کہ فوری کوئی بڑی کامیابی حاصل ہو جائے گی، لیکن جو لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں، وہ کسی ایک پلیٹ فارم سے مل کر انتخابات میں حصہ لیں، ممکن ہے وہ ایک بڑی طاقت بن جائیں۔ بہت سے لوگ اس سسٹم کو پسند نہیں کرتے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں ورنہ وہ تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ لہذا مختلف الخیال قوتوں کا یکجا ہونا چاہیے اور ملک سیاسی جدوجہد کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
کیا مشترکہ انتخابی پلیٹ فارم کے لئے کی جانے والی کوششوں کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا۔؟
ابھی تک کوئی خاص نتائج نہیں نکلے ہیں۔ ان تنظیموں کی نچلی سطح پر رابطے ہوئے ہیں۔ گفتگو ہوئی ہے، اور چند حلقوں میں ان کے درمیان تفاہم بھی ہوا ہے، لیکن وسیع پیمانے پر یہ تفاہم نہیں ہوسکا۔
ووٹر کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
میں بلاتفریق مذہب ان پاکستانی شہریوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں، جو اس ملک کی موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں اور وہ ایک بہتر صورتحال کی توقع رکھتے ہیں کہ وہ بار بار کے تجربوں سے درس حاصل کرتے ہوئے، ان قوتوں اور افراد کو ووٹ دیں، جو خود اچھے کرادر و سوچ کے مالک ہوں اور وہ بذات خود اس ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہوں۔ بار بار آزمائے ہوئے لوگوں کو نہ آزمائیں۔ ان لوگوں کو موقع دیں جو اس ملک میں مثبت تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔
آخر میں القائم ٹرسٹ کی جانب سے شہدائے پاراچنار کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کی جانے والی کوششوں پر اظہار خیال کریں۔؟
ان دوستوں نے بہت اچھا کام شروع کیا ہے۔ اللہ تعالٰی ان کی کوششوں میں برکت ڈالے۔ گو کہ یہ محدود پیمانے پر ہے لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں، انشاءاللہ مستقبل میں ایک بہت اچھا ادارہ ثابت ہوگا اور قوم و ملت کے لئے مفید و مؤثر ثابت ہوگا۔
.......
/169